آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومت سازی، پیپلزپارٹی کا عدلیہ سے رجوع کا فیصلہ
ریاست میں قیامِ امن کےلئے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ناگزیر ہیں،متفقہ قرارداد منظور

اسلام آباد(ڈیلی طالب ) پاکستان پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت سازی کے خلاف عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ریاست میں میں قیامِ امن کےلئے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے مطالبے کے حق میں متفقہ قرارداد بھی منظور کرلی گئی ۔میڈیارپورٹ کے مطابق پی پی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس فریال تالپور کی زیرِ صدارت زرداری ہاﺅس میں منعقد ہوا، اجلاس میں کشمیر میں حکومت سازی سمیت انتخابات سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو کسی صورت چلنے نہیں دیا جائے گا۔ حکومت سازی کا عمل روکنے کےلئے پی پی اراکین نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے اور حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی قانونی ٹیم کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے کوٹلی کے 3 اور مظفرآباد کے 2 حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ارکان نے موقف اختیار کیا کہ ان دو اضلاع میں انتخابات مکمل کیے بغیر آزاد کشمیر میں حکومت سازی آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، جبکہ نومنتخب ارکانِ قانون ساز اسمبلی سردار یعقوب، ظفر اقبال ملک اور ماجد خان اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ وادی میں قیامِ امن کےلئے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ناگزیر ہیں۔




