
ریڈیو فری یورپ نے طالبان رجیم کے واخان راہداری منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اسے ناقابل عمل قرار دے دیا۔ 4 اکتوبر کو طالبان رجیم نے واخان سڑک کا افتتاح تو کر دیا لیکن چینی ماہرین کے مطابق سرحد جلد کھلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔
ریڈیو فری یورپ کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کا یہ منصوبہ حقیقی تجارتی رابطے کے بجائے محض علامتی اور نمائشی ہے۔ ایک طرف واخان میں نومولود بچوں کی شرح اموات 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور طالبان رجیم عوامی فلاح کے بجائے نمائشی منصوبوں میں مصروف ہے۔
رپورٹ کے مطابق 4 ہزار 800 میٹر بلند درہ سال میں صرف 3 ماہ گاڑیوں کیلئے قابل استعمال ہے۔ جبکہ افغان معیشت انتہائی محدود ہونے کے باعث چین کیلئے اس کی تجارتی اہمیت نہ ہونے کے برابر ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ سرحد کھولنے کے کسی بھی ممکنہ معاشی فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی 2026 کی رپورٹ نے بدخشاں میں ای ٹی آئی ایم کی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔
چینی میڈیا نے افغانستان سے ملحقہ 76 کلومیٹر سرحد کو انسداد دہشت گردی کا اہم محاذ قرار دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم نے ای ٹی آئی ایم کے خلاف کارروائی کے چینی مطالبات مسلسل نظر انداز کیے ہیں۔
چین کے لیے اصل سوال افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات ہیں، اور جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور سرحد پار دراندازی کا خطرہ ختم نہیں ہوتا، خاردار تاریں نہیں ہٹیں گی اور دہشت گردوں کی سرپرستی ختم کیے بغیر طالبان رجیم کے لیے واخان کا دروازہ بند ہی رہے گا۔


