اسلام آبادتازہ ترین

سانحہ پمز،ہمیں 2 سوختہ لاشیں دی گئیں، ڈی این اے نہیں کرایا گیا، ماموں

4 سال بعد پیدا ہونے والے بیٹے کے کان میں اذان دی، نام بھی رکھا تھا، والد ادریس

اسلام آباد(ڈیلی طالب )پمز اسپتال میں آتش زدگی کے باعث جاں بحق ہونے والے دو نومولود بچوں کے ماموں طاہر خان نے بتایا کہ انھیں انتظامیہ کی جانب سے دو سوختہ میتیں حوالے کی گئیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق طاہر خان کا کہنا تھا کہ پمز اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ڈی این اے بھی نہیں کرایا گیا، ہم غریب لوگ ہیں ہماری گزارش کون سنے گا، دونوں بچوں کی ماں بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔بچوں کے ماموں نے بتایا کہ بچوں کی پیدائش 3 دن پہلے ہوئی تھی، میں نے ان کے والد کو آرام کرنے کے لیے گھر بھیجا تھا کہ یہ سانحہ ہو گیا۔دریں اثنا، پمز نرنسری میں آتشزدگی کے باعث جاں بحق ہونے والے ایک نومولود بچے کے والد ادریس خان نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز فجر کے وقت ہوئی تھی، اور انھوں نے بیٹے کے کان میں اذان دی، اور پھر اس کا نام بھی رکھا تھا۔انتہائی غم زدہ باپ ادریس خان نے بتایا کہ ان کے ہاں 4 سال بعد پیدا بچہ پیدا ہوا تھا، وہ بھی بیٹا، انھوں نے کہا میں نے عملے سے کہا کہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بچے کو نرسری میں رکھنے کی ضرورت نہیں، لیکن مجھے کہا گیا کہ بچے کو 2 ڈھائی گھنٹے نرسری میں رکھنا پڑے گا۔نومولود کے والد نے کہا جب میں بچے کو لینے گیا تو دیکھا کہ نرسری کے گیٹ پر تالا پڑا تھا اور اندر سے دھواں نکل رہا تھا، افراتفری کا عالم تھا اور نرسری کے گیٹ پر کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button