بلوچستان

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

ایف سی کو بلوچستان سے نکال کر لیویز فورس کو بحال اور بااختیار بنایا جائے

زیارت دھرنے کے مطالبات تسلیم کیے جائیں،امیر جماعت اسلامی

کوئٹہ(یو این اے )امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، دہشت اور خوف کا راج ہے، صوبائی حکومت بے اختیار جبکہ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیارت شہدا دھرنا مظلوم عوام کی مشترکہ آواز ہے اور اس کے مطالبات عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں، جنہیں فوری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے یہ بات جماعت اسلامی بلوچستان کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کی صدارت نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان احد اختر بلوچ نے کی، جبکہ صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امرا مولانا عبدالکبیر شاکر، بشیر احمد ماندائی، مولانا محمد عارف دمڑ، امیر جماعت اسلامی کوئٹہ عبدالنعیم رند، ڈاکٹر نعمت اللہ، اعجاز محبوب، جمیل احمد مشوانی، محمد حلیم حماس، طیب فرید خان، عبدالولی خان شاکر، احمد شاہ غازی، روح اللہ سالار اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان میں بدامنی، قتل و غارت، کوئٹہ، منگلہ، ہنہ اوڑک اور زیارت میں دہشت گردی کے واقعات، لاشوں کی برآمدگی، امن و امان کی صورتحال، جاری دھرنوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے پہاڑوں، شاہراہوں اور شہروں کو محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مقف اختیار کیا کہ بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف سی کو بلوچستان سے نکال کر لیویز فورس کو مکمل اختیارات، وسائل اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ بلوچستان میں امن، عوامی حقوق اور بدامنی کے خاتمے کے لیے ایک قومی کانفرنس بلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچ اور پشتون علاقوں میں اغوا، قتل، دہشت گردی اور شاہراہوں پر عدم تحفظ کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، جبکہ روزگار، تجارت اور سرحدی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔سیاسی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ زیارت شہدا دھرنے کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button