
لاہور(ڈیلی طالب )وفاقی حکومت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں بڑی تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں موجودہ 15 روزہ نظام کے بجائے **روزانہ** مقرر کی جا سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن ایک ایسی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں حکومت کا براہِ راست کردار کم کر دیا جائے گا، جبکہ قیمتوں کے تعین کی مکمل ذمہ داری **آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)** کو سونپ دی جائے گی۔پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت اوگرا ہر رات عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے کر نئی قیمتوں کا تعین کرے گی۔مجوزہ طریقہ کار کے مطابق نئی قیمتیں ہر روز **رات 12 بجے** سے نافذ العمل ہوں گی، جبکہ ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس ان ہی نئی قیمتوں پر پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کے پابند ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا فائدہ یا اثر فوری طور پر صارفین تک پہنچانا، قیمتوں کے تعین کے عمل کو زیادہ شفاف، مارکیٹ پر مبنی اور مؤثر بنانا ہے۔فی الحال پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر **15 روز** بعد حکومت کی منظوری سے اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس تجویز پر ابھی **کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا** اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ منظوری یا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اگر اس منصوبے کو نافذ کیا گیا تو یہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں سب سے بڑی اصلاحات میں سے ایک ہوگی۔


