بلوچستانپاکستانتازہ ترین

پاکستان ایک فیڈریشن ہے سب قومیں اپنی اپنی سرزمینوں پر آباد ہیں نہ کوئی قوم کسی کا آقا ہے نہ کوئی غلام ہے,اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی

کوئٹہ ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی نے سانحہ زیارت کے خلاف کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنے میںشرکت کی ۔احتجاجی دھرنے سے تحریک تحفظ آئین پاکستان مرکزی نائب صدر اور مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس ، مرکزی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا ۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ عمران خان کے کیسز میں فیصلوں کا اختیار نہیں رکھتا تھا تو پھر استعفیٰ کیوں نہیں دیا ؟ پاکستان ایک فیڈریشن ہے سب قومیں اپنی اپنی سرزمینوں پر آباد ہیں نہ کوئی قوم کسی کا آقا ہے نہ کوئی غلام ہے ۔ آئین کی بحالی ، بالادستی پاکستان کے بچانے کا راستہ ہے ۔ آئی ایم ایف کو لکھیں گے کہ آئی ایم ایف سے لیئے گئے پیسے ہمارے وطن میں نہیں لگے لہٰذا ہم قرضوں کے ذمہ دار نہیں، یہ جنازے یہاں رکھے گئے ہیں ہمیں تقریروں کا کوئی شوق نہیں یہاں پشتونوں کا خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ پشتون افغان کا خون ناحق بہاتے ہوئے لوگوں کا جی نہیں بھرا ، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ صاحب، جرنیل صاحب اپنے بچوں کو لے آئیں یہ لوگ قصاص میں ماردینگے ہم آپ کو پانچ کرورڑ روپے دینگے۔ نواب ایاز خان جوگیزئی سے کہہ دیں گے کہ وہ وطن کے علماءکرام ، قبائلی زعماءاور پشتونوں کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے جرگہ منعقد کریں ،سیاسی پارٹیاں ایسے باصلاحیت لوگوں کے نام کی فہرست مرتب کریں جو جرگہ کے ذریعے پشتونوں کو موجودہ صورتحال سے نجات دلاسکتے ہو ،قومی جرگہ پشتون وطن ، وسائل کی تحفظ ، زمینوں کی الاٹمنٹ کے خلاف اور محفوظ مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرے گااس جرگے کی نمائندگی سے پھر ظالموں سے بات ہوگی ۔کسی سے زبان ، مذہب ، فرقہ ، رنگ ، نسل کی بنیاد پر نفرت کرنے کو ہم گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ۔ ہم ظالم اور مظلوم کی جنگ میں مظلوموں کا ساتھ دیتے رہیں۔ پشتونوں کا اقتصادی قتل عام شروع کیا ہے اس بات پر بھی دھرنے بیٹھیں گے۔ تجارت کرتے رہینگے لیکن اگر کوئی منشیات یا اسلحہ لاتا ہے اُسے بے شک گولی مارو لیکن اشیاءروز مرہ کی تجارت کو آپ نے چھوڑنا ہوگا تب پاکستان رہے گا۔ ہمارے ساحل وسائل آئین گارٹنی دینی ہوگی کہ جن اقوام کی تاریخی سرزمینوں میںتھی اس میں پہلا حق ان کے بچوں کا ہوگا۔ پاکستان کی مضبوط فوج اور مضبوط جاسوسی ادارے ہونے چاہیے لیکن پارلیمنٹ سپریم اور بااختیار ہوگی ۔ آئین کی بالادستی ہوگی ، ظالم اور مظلوم کے درمیان انصاف ہوگی۔ اور اگر آئین فوج کے بوٹوں تلے روندھا جارہا ہو اور قوموں کے وسائل پر قابض بیٹھے ہوں اس پاکستان کو زندہ باد کہنا گناہ سمجھتا ہوں ۔ پشتون بدی کے معنی کو سمجھتے ہیں پشتون بلوچ کے اس صبر کو بے غیرتی نہ سمجھیں۔ آپ نے کشمیریوں، بلوچوں ، پشتونوں،سندھیوں، سب سے کہنا ہوگا کہ یہ وطن آپ کا ہے اس کے ساحل وسائل آپ کے ہیں انہیں باور دلانا ہوگا۔ آپ کے وطن میں پڑے معدنیات آپ کے بچوں کاہے تب پاکستان زندہ اباد ہوگا۔ ہم پاگل نہیں کہ پاکستان کے خزانے میں اپنے معدنیات نہیں دینگے بلکہ مل بیٹھ کر دنیا کے قوانین کے مطابق وطن کے مالکوں کو اپنا حصہ دو باقی آپ لے جاﺅ۔ علی وزیر کے خاندان کے 17افراد کو بغیر کسی گناہ کے شہید کیا گیااور کہا جاتا ہے کہ علی وزیر گالیاں دیتا ہے ۔ ماہ رنگ بلوچ اسلام آباد آئی تھی ہم نے ان کے دھرنے میں شرکت کی کسی پر احسان نہیں جتاتے ۔ بلوچوں کو ہمارے ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ ہماری تاریخی سرزمینوں کو سبی ، کوئٹہ وغیرہ کو کبھی ادھر کبھی اُدھر شامل کیا جاتا ہے ان کاموں سے باز آنا ہوگا۔ ہماری تاریخی زمینوں کو نہ چھیڑیں ۔ہمارے جتنے مزدوروں کو آپ نے مارا ہے جتنی گاڑیوں کو جلایا ہے ان کا بھی حساب دینا ہوگا۔ دنیا کے تمام سفیروں کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ جس حکومت کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں یہ عوامی حکومت نہیں اسے کوئی عوامی مینڈیٹ حاصل نہیںان کے ساتھ معاہدوں کے اختیارات نہیں ۔ PTIکے لوگ اور دیگر تمام جمہوری پارٹیوں کے ساتھی 5اگست سے اپنا احتجاجی شیڈول اعلان کریں۔ مذاکرات بے اختیار لوگوں کے ساتھ نہیں ہوسکتے شہباز شریف کے ساتھ بھی اختیار نہیں ،عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن ایک کرنل ایک برگیڈیئر کے ساتھ یہ اختیارات تھے شبہاز شریف کے ساتھ نہیں تھے۔ پولیس تھانوں میں خواتین ، بچوں کی بے عزتیاں کی گئی لیکن کسی کو شرم نہیں آئی ۔ ہم پشتونوں کے سر پر سودا نہیں کرینگے ہمارے بچوں کو آپ مارو گے اور ہم خاموش بیٹھے رہینگے یہ ممکن ہی نہیںآپ لوگوں نے ظلم کیا ہے ابھی اس کا ازالہ کرنا ہوگا۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ہم پاگل نہیں ہیں کہ لوگوں کو ایسے ہی بٹھایا ہے یا ہمیں تقریروں کا شوق ہے بلکہ ہم اس لیے اکھٹے ہوئے ہیں کہ آج ہمارا خون انتہائی سستا ہوچکا ہے ، پشتونوں کے خون بہانے کا ابھی تک لوگوں کا جی نہیں بھرا ، میں جب پشتون یا افغان لفظ استعمال کرتا ہوں اس کا مطلب ہے کہ پشتونخوا وطن کے وہ تما م رہنے والے جو ضلع ہزارہ ، گلگتی، بلتستان ، ہزارہ برادی، پنجابی پشتونخوا وطن میں بسنے والے تمام ہندو، سکھ ، عیسائی ، یاکسی بھی مذہب کے لوگ ہیں ان سب کے لیے میں پشتون افغان لفظ استعمال کرتا ہوں ۔ دارصل سارا کھیل انہی لوگوں کے قیمتی وطن کو قبضہ کرنے کے لیے ہے ۔ یہ آج کی بات نہیں ہے اُس وقت سے ہے جب لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پشتون افغان وطن کی محبت ان کے جذبے ، طاقت کو توڑنا ہوگایہ اُسی وقت سے شروع ہوا ہے جب فرنگی انگریز یہاں آیا ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے ،نیل کی ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر ۔ وہ دراصل اسلامی دنیا کی سرحدیں بتاتا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب یورپ کے بھوکے ننگے ، قاتل ، ظالم فرانسوی انگریز ،اٹالین لوگوں نے اپنا رخ ہمارے وطنوں کی طرف کیا کہ یہاں کے وسائل لوٹ لیں تو علامہ اقبال کے بتائے گئے اس سارے عالم اسلام کو قبضہ کیا گیا اور بہت جلد ہمارے وطنوں تک پہنچ گئے ۔ کچھ نے عرب ممالک کا رخ کیا کچھ ملائیشیا ، انڈونیشیاءکی طرف چلے اور بہت کم وقت میں جو لوگ جو ممالک کلمہ طیبہ کے بولنے والے تھے ان تمام ممالک کو قبضہ کیا گیاان میں صرف دو اقوام تھیں جن کے وطنوں پر قبضہ نہ کرسکے ایک ترک اور دوسرا یہ آپ کا افغان وطن ۔ باوجود اس کے جو کہ بہت کمزور تھے لیکن وطن کی حفاظت میں اپنے جانوں کے نذرانے پیش کرکے وطن کو قبضہ ہونے سے بچایا ۔ آپ کا گنا ہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام کی دفاع ،وطن کی دفاع ، اپنے مٹی کے تحفظ اور استقلال کی رکھوالی کی ہے ۔ 1725ءمیں پہلی دفعہ انگریزوں نے پلاسی جنگ کے دوران بنگال کو دھوکہ سے قبضہ کیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button