
اسلام آباد (طالب نیوز)وفاقی وزیر احسن اقبال نے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نا انصافی ہے، یہ اخلاق کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاریاپنے ایک بیان میں انہوں نے سربراہ جے یو آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب! آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہدا کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا۔اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ہمارے فوجی جوان اور افسر محض ایک پیشہ انجام نہیں دیتے، بلکہ وہ ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کے دفاع کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ آج ہم اپنے گھروں میں، مساجد میں، مدارس میں اور جلسوں میں امن کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وہ سپاہی ہے جو سرحد پر، دہشت گردی کے خلاف محاذ پر اور ہر خطرناک مقام پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے کھڑا ہے۔وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگلا لمحہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ ہو سکتا ہے، اس خوف سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے ہیں کہ ان کی شہادت ان کی بیوی کو بیوہ، بچوں کو یتیم اور بوڑھے والدین کو سہارے سے محروم کر دے گی۔ ایسی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نہ انصاف ہے، نہ اخلاق کے تقاضوں کے مطابق، اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے شہادت کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاں، پھر زندہ کیا جاں، پھر شہید کیا جاں، پھر زندہ کیا جاں، پھر شہید کیا جاﺅں۔یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔شہدا ہی قوموں کی عزت، آزادی اور وقار کے محافظ ہوتے ہیں۔ انہی کی قربانیاں قوموں کو سربلندی عطا کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو امن اور آزادی کا مستقبل دیتی ہیں۔ ہم سب پر ان کا ایسا قرض ہے جو کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ ان کے احسان کا اعتراف کرنا، ان کی قربانی کا احترام کرنا اور ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنا اور انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھنا ہماری قومی، سیاسی،اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہدا کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں۔ شہدا کا احترام درحقیقت پاکستان کے احترام، ہماری آزادی کے احترام اور ان اسلامی اقدار کے احترام کا تقاضا ہے جن کی بنیاد ایثار، قربانی اور وفاداری پر قائم ہے۔ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و عوامی امور،سینیٹر رانا ثنا اللہ خان نے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ شہادت مقصود و مطلوب مومن ہے۔ یہ اس کا نصیب ہے جو قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن۔ان کا کہنا تھا کہ یہ راز ہم دنیا داروں، تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ رانا ثنا اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالی شہدا کے ورثا اور غازیوں کو صبر جمیل اور یقین محکم کی دولت سے مالا مال رکھے کہ یہی ہماری آزادی اور بقا کا ضامن ہے۔ آمین۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے جمعیت علما اسلام کے سربراہ کے بیان پر ان سے شہدا کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بھی ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کی۔