کاروباری دنیا

زرعی مردم شماری: خواتین سربراہانِ خانہ کے نام پر رجسٹرڈ فارم ایک فیصد سے بھی کم،ویلتھ پاکستان

اسلام آباد(ڈیلی طالب )زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق پاکستان میں خواتین کے سربراہانِ خانہ کے نام پر رجسٹرڈ زرعی فارموں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے جس سے ملک کے زرعی شعبے میں صنفی تفاوت واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ پاکستان ادار شماریات کی زرعی مردم شماری 2024 کی قومی رپورٹ، جو ویلتھ پاکستان کو موصول ہوئی، کے مطابق ملک بھر کے ایک کروڑ 11 لاکھ 4 ہزار زرعی فارموں میں سے صرف 80 ہزار 278 فارم خواتین سربراہانِ خانہ کے نام پر رجسٹرڈ ہیں جبکہ ایک کروڑ 10 لاکھ 23 ہزار فارم مرد سربراہانِ خانہ کے نام پر درج کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کے نام پر رجسٹرڈ فارموں کا مجموعی رقبہ 2 لاکھ 83 ہزار 676 ایکڑ ہے، جبکہ ملک کا کل زرعی فارم رقبہ 5 کروڑ 93 لاکھ ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے۔ اسی طرح خواتین کے زیرِ کاشت رقبے کا حجم 2 لاکھ 55 ہزار 597 ایکڑ ہے، جبکہ ملک کا مجموعی زیرِ کاشت رقبہ 5 کروڑ 27 لاکھ 88 ہزار ایکڑ ریکارڈ کیا گیا۔ صوبائی سطح پر خواتین کے سربراہانِ خانہ کے نام پر سب سے زیادہ 34 ہزار 292 فارم پنجاب میں رجسٹرڈ ہوئے۔ سندھ میں یہ تعداد 30 ہزار 979، خیبرپختونخوا میں 12 ہزار 374، بلوچستان میں 2 ہزار 524 جبکہ اسلام آباد میں 109 فارم ریکارڈ کیے گئے۔ فارموں کے رقبے کے لحاظ سے پنجاب میں خواتین کے نام پر 1 لاکھ 19 ہزار 481 ایکڑ، سندھ میں 82 ہزار 478 ایکڑ، بلوچستان میں 54 ہزار 261 ایکڑ، خیبرپختونخوا میں 27 ہزار 232 ایکڑ جبکہ اسلام آباد میں 223 ایکڑ فارم رقبہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح خواتین کے زیرِ کاشت رقبے میں پنجاب 1 لاکھ 11 ہزار 987 ایکڑ کے ساتھ سرفہرست رہا، سندھ میں 74 ہزار 191 ایکڑ، بلوچستان میں 49 ہزار 296 ایکڑ، خیبرپختونخوا میں 19 ہزار 900 ایکڑ جبکہ اسلام آباد میں 223 ایکڑ زیرِ کاشت رقبہ خواتین کے نام پر درج کیا گیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار کا یہ مطلب نہیں کہ خواتین زرعی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین بیج بونے، فصل کی کٹائی، مویشیوں کی دیکھ بھال، چارہ جمع کرنے، دودھ سے متعلق کاموں اور برداشت کے بعد کی زرعی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم مردم شماری میں فارموں کی رجسٹریشن زیادہ تر مرد سربراہانِ خانہ کے نام پر ہونے کی وجہ سے ان کی عملی خدمات مکمل طور پر ریکارڈ نہیں ہو پاتیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال پالیسی سازوں کے لیے اہم سوالات اٹھاتی ہے کہ خواتین کو زمین کی ملکیت، زرعی قرضوں، زرعی مشاورتی خدمات، مشینری، لائیو اسٹاک سے متعلق معاونت اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی پروگراموں تک کس حد تک رسائی حاصل ہے۔ اگر حکومتی زرعی سہولتیں صرف رجسٹرڈ فارم مالکان یا سربراہانِ خانہ تک محدود رہیں تو خواتین ان فوائد سے محروم رہ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ زرعی ترقی کے منصوبے اس انداز میں تشکیل دیے جائیں کہ دیہی معیشت میں خواتین کے حقیقی کردار کو بھی تسلیم کیا جائے، خواہ رسمی ریکارڈ میں فارموں کی اکثریت مردوں کے نام پر ہی کیوں نہ درج ہو۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button